ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلور: شہر بھر میں ڈینگو، چکون گنیا اور وائر ل بخار؛ عام مریضوں کے علاج کیلئے اسپتالوں میں جگہ کی قلت

بنگلور: شہر بھر میں ڈینگو، چکون گنیا اور وائر ل بخار؛ عام مریضوں کے علاج کیلئے اسپتالوں میں جگہ کی قلت

Wed, 30 Aug 2017 22:20:26    S.O. News Service

بنگلورو۔30؍ اگست(ایس او  نیوز/عبدالحلیم منصور) شہر بھر میں متعدی امراض کا پھیلاؤ بے قابو حدوں تک بڑھتا جارہاہے۔ ڈینگو ، چکون گنیا اور وائرل بخار میں مبتلا مریضوں سے شہر کے تقریباً تمام اسپتال بھر چکے ہیں۔ کسی بھی اسپتال میں مریضوں کیلئے بستر خالی نہیں ہے، لیکن اس سے نمٹنے کیلئے جو فوری ہنگامی اقدامات درکار ہیں وہ نہیں ہو پائے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق شہر میں بخارکی شکایت کے ساتھ جتنے مریض اسپتالوں کا رخ کررہے ہیں ان میں سے چالیس فیصد سے زیادہ کو متعدی بخاروں میں مبتلا پایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ نجی اسپتالوں میں بھی ان مریضوں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اسپتالوں میں جگہ تنگ ہوچکی ہے۔ شہر کے بعض اہم اسپتالوں کے سربراہوں نے داخلی طور پر یہ سرکیولر جاری کیا ہے کہ جن مریضوں کا علاج تیزی سے کیاجاسکتاہے انہیں داخل کرنے کی بجائے دوا دے کر رخصت کردیا جائے اور جن مریضوں کی حالت خراب ہے صرف انہی کو اسپتال میں لیا جائے ،تاکہ تمام کو سہولت فراہم کی جاسکے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ڈینگو ،چکون گنیا اور وائرل بخار کیلئے دواؤں کی قلت بھی درپیش ہے۔ بی بی ایم پی اور سرکاری اسپتالوں میں صورتحال اور بھی بدتر ہے، پہلے ہی اسپتالوں میں دواؤں کا اس قدر ذخیرہ نہیں ہوتا کہ تمام کو فراہم کی جاسکیں۔خود مریض بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ سرکاری اور بی بی ایم پی اسپتالوں میں ٹھیک طرح سے علاج نہیں ہوتا اسی لئے وہ نجی اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ حالانکہ بی بی ایم پی نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے فاگنگ اور دیگر احتیاطی تدابیر کا اہتمام کیا ہے، لیکن ان کے متعلق عوام میں بیداری اب تک نہیں لائی جاسکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے شہریوں کو لاپرواہی کا رویہ اپنانا نہیں چاہئے ،بلکہ اپنے گھروں اور آس پاس کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔کسی بھی حال میں پانی کو گھر کے اندر یا باہر کہیں بھی جمع ہونے نہ دیا جائے، کیونکہ ڈینگو کے مچھر صرف پاک پانی میں ہی پنپتے ہیں۔ اس سے احتیاط بہت ضروری ہے۔ ڈینگو کا شکار مریضوں کے علاج میں بھی کافی احتیاط کی ہدایت دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال اب بھی اس قدر بے قابو نہیں ہے کہ سدھرنہ سکے۔ فوری طور پر حکام کو چاہئے کہ اس سے نمٹنے کیلئے ٹھوس قدم اٹھائیں۔ 


Share: